Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جدہ سے مکہ نفلی طواف کیلئے احرام کا حکم
- Answered by
- مولانا رضا محمد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2577-Web
- Issued
- 11 جمادی الاولی 1447 / 03 نومبر 2025 علم الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم جدہ سے طواف کرنے کی نیت سے مکہ جانے کی صورت میں احرام کا حکم ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم جدہ میں رہتے ہیں تو کیا صرف طواف کی نیت سے مکہ مکرمہ جاسکتے ہیں ؟ جواب جدہ جل میں (میقات کے اندر اور حرم سے باہر) ہے ، اور جل میں رہنے والے جب حج یا عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ جانے کا قصد کریں، تب ان پر حدود حل سے احرام باندھ کر جانا لازمی ہوتا ہے ، اس صورت میں احرام باندھے بغیر حدود حرم میں داخل ہونا ان کے لئے جائز نہیں ۔ ہاں جب مکہ شریف جانا حج یا عمرہ کے رادے سے نہ ہوا اگر چہ محض نفلی طواف کرنے کا ارادہ ہو تو احرام باندھنا ضروری نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.