Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گھر میں رہنے والی بلی کو چھوڑنے کا کیا حکم ہے؟
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2451-Web
- Issued
- 18 ربیع الاول 1447ھ /12 ستمبر 2025ء دار الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم گھر شفٹ کرنے کی صورت میں گھر میں رہنے والی بلی کا کیا کریں؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم جس گھر میں رہ رہے ہیں یہاں کچھ عرصہ پہلے ایک بلی آکر رہنے لگی ہے اور اس نے چار بچے بھی دئیے ہیں ۔ بلی کو کھانا بھی ہم دیتے ہیں ، معلوم یہ کرنا ہے کہ اب ہم گھر خالی کر کے کہیں اور شفٹ ہو رہے ہیں، توکیا بلی کو بھی ساتھ لے کر جانا ضروری ہے ؟ جواب ہلی جب خود چل پھر سکتی ہے اور اپنا کھانا خود تلاش کر سکتی ہے تو اسے ساتھ لے جانا کوئی ضروری نہیں ، نہ ہی اس کے کھانے پینے کا بندو بست کرنا ضروری ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.