Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیماری یا کمزوری کی صورت میں ٹیک لگا کرنماز پڑھنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2448-Web
- Issued
- 14 ربیع الاول 1447ھ/08ستمبر 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم نماز ٹیک لگا کر پڑھنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نماز ٹیک لگا کر پڑھ سکتے ہیں ؟ اور اگر کوئی عذر ہو تو پھر کیا حکم ہوگا؟ جواب نماز میں بغیر کسی عذر کے ٹیک لگانا مکروہ ہے، البتہ کوئی عذر (مثلاً بیماری یا شدید کمزوری ہو) تو اب ٹیک لگانے کی اجازت ہے۔ بہار شریعت میں ہے : " بغیر عذر دیوار یا عصا پر ٹیک لگانا مکروہ ہے اور عذر سے ہو تو حرج نہیں، بلکہ فرض و واجب و سنت فجر کے قیام میں اس پر ٹیک لگا کر کھڑا ہونا فرض ہے جب کہ بغیر اس کے قیام نہ ہو سکے ، جیسا کہ بحث قیام میں ذکر ہوا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.