Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرض کی شرط پر چیز مہنگی بیچنا کیسا؟

Answered by
مولانا رضا محمد عطاری مدنی
Fatwa no.
2566-Web
Issued
05 جمادی الاولی 1447 / 28 اکتوبر 2025. DaruliftaAhlesunnat

Answer (beginning)

بسم الله الرحمن الرحيم مقروض کو اس شرط پر قرض دینا کہ وہ قرض دینے والے سے معمولی قیمت کی چیز مہنگی خریدے سوال دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص کسی کو قرض دے اور شرط یہ ہو کہ وہ قرض دینے والے سے ایک قلم 20 ہزار روپے میں خرید سے گا، کیا یہ سود کے زمرے میں داخل ہو گا جبکہ اس قلم کی قیمت مارکیٹ میں تقریباً سوروپے ہے ؟ جواب اگر قرض دیتے ہوئے یہ شرط لگا دی گئی کہ مقروض، قرض دینے والے سے 20 ہزار کی چیز خریدے گا جبکہ اس چیز کا ریٹ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے انتہائی معمولی ہے جیسا کہ سوال میں ”پین “کا ذکر کیا گیا ، تو یہ معاملہ حرام اور بلاشبہ سودی معاہدہ ہے کہ اس طرح قرض دینے والا اپنے قرض…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.