Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں رکوع و سجود کی تسبیحات زیادہ پڑھنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 2483-Web
- Issued
- 28 ربیع الاول 1447ھ /22 ستمبر 2025ء
Answer (beginning)
بسم الله الرحمن الرحيم تنہا نماز پڑھنے کی صورت میں رکوع و سجود کی تسبیحات زیادہ تعداد میں پڑھنا کیسا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال اکیلیے نماز پڑھتے ہوئے فرض، سنت یا نفل نماز کے رکوع و سجود میں تسبیحات تین سے زیادہ پڑھ سکتے ہیں ؟ جواب اکیلے نماز پڑھنے والا تین سے زائد مرتبہ بھی رکوع و سجود کی تسبیحات پڑھ سکتا ہے بلکہ افضل ہے البتہ ختم طاق عدد پر کی جائے۔ بہار شریعت میں ہے : تمین بار تسبیح اونی درجہ ہے ، کہ اس سے کم میں سنت ادا نہ ہوگی، اور تین بار سے زیادہ کہے تو افضل ہے ، مگر ختم طاق عدد پر ہو، ہاں اگر یہ امام ہے اور مقتدی گھبراتے ہوں تو زیادہ نہ کرے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.