Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت کی دو الگ شوہروں سے ہونے والی اولاد کا آپس میں نکاح
- Answered by
- مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2458-Web
- Issued
- 21 ربیع الاول 1447ھ /15 ستمبر 2025ء
Answer (beginning)
بسم الله الرحمن الرحيم ایک عورت کی دو شادیاں ہوں اور دونوں سے اولاد ہو ، تو کیا ان کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہے ؟ سوال دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ایک عورت کی دوشادیاں ہوئیں تو کیا ان دونوں سے اس عورت کی جو اولاد ہے ان کی آپس میں شادی ہو سکتی ہے ؟ جواب ایک عورت کے ایسے دو بچے جو دو الگ الگ شوہروں سے ہوں ان کی بھی آپس میں شادی نہیں ہو سکتی کہ یہ دونوں ماں شریک بہن بھائی ہیں اور آپس میں نسبی محارم ہیں ، ان کا ایک دوسرے سے نکاح حرام ہے ۔ بہار شریعت میں ہے : " بہن خواہ حقیقی ہو یعنی ایک ماں باپ سے یا سوتیلی کہ باپ دونوں کا ایک ہے اور مائیں دو یا ماں ایک ہے اور باپ دوسب حرام ہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.