Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زمین گروی رکھ کر قرض لینے کا حکم
- Answered by
- مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2457-Web
- Issued
- 21 ربیع الاول 1447ھ /15 ستمبر 2025ء
Question
اپنی زمین گروی رکھ کر رقم ادھار لینا کیسا ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال اپنی زمین گروی رکھ کر رقم ادھار لینا کیسا ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم اپنی زمین گروی رکھ کر قرض لینا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زمین گروی رکھ کر رقم ادھار لینا شرعاً جائز ہے ، لیکن اگر صورت حال یہ ہے کہ قرض لیا اور اپنی زمین گروی رکھوا دی کہ جب تک قرض واپس نہ ہو اس وقت تک قرض دینے والا اس زمین سے فائدہ اٹھاتا رہے ، پھر جب قرض واپس کیا جائے گا تو زمین واپس مل جائے گی تو یہ سودی معاملہ اور ناجائز وگناہ ہے ، اس سے مسلمانوں کو بچنا لازم ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.