Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچے کو قبلہ رخ پیر کر کے سلانا کیسا؟
- Answered by
- مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2560-Web
- Issued
- 23 ربيع الآخر 1447هـ / 17 اکتوبر 2025. علم الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم نا بالغ بچہ یا بچی کو قبلہ رخ پیر کر کے سلانا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا نا بالغ بچے یا بچی کو جگہ کی تنگی کی وجہ سے یا بلا وجہ قبلہ رخ پیر کر کے سلایا یا لٹایا جاسکتا ہے ؟ جواب کعبہ معظمہ دین اسلام میں انتہائی عزت و اہمیت کا حامل ہے ، اسے شعائر اللہ (اللہ کی نشانیوں) میں شمار کیا جاتا ہے ، اس کی تعظیم کرنا اور ادب بجالانا ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے ، اس کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی جانب پاؤں نہ پھیلائے جائیں، اسی وجہ سے فقہائے کرام نے فرمایا ( بغیر عذر صح) قبلہ شریف کی طرف پاؤں پھیلانا، ممنوع و مکروہ ہے کہ اس میں قبلہ شریف کی بے ادبی ہے لہذا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.