Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا ماموں کے فوت ہونے کے بعد ممانی سے نکاح کیا جا سکتا ہے؟

Answered by
مولانا رضا محمد مدنی
Fatwa no.
2512-Web
Issued
15 ربیع الآخر 1447 / 09 اکتوبر 2025. دار الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

بسم الله الرحمن الرحيم ماموں کے فوت ہو جانے کے بعد معانی سے نکاح کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال کیا ماموں فوت ہو جائے ، تو ممانی سے نکاح کر سکتے ہیں ؟ جواب ممانی محرم نہیں ہے ، لہذا ماموں کی وفات کے بعد جب ممانی کی عدت ختم ہو جائے ، تو پھر اس سے نکاح کر سکتے ہیں بشر طیکہ کوئی اور وجہ حرمت مثلاً رضاعت یا مصاہرت وغیرہ نہ ہو۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : "ناموں کے مرنے یا طلاق دینے اور عدت گزارنے کے بعد ممانی سے نکاح جائز ہے کہ یہ محارم کی کسی قسم میں داخل نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.