Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غیر مسلم عورت سے میک اپ یا فیشل کروانا کیسا؟
- Answered by
- مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2519-Web
- Issued
- 15 ربیع الآخر 1447ھ /09اکتوبر 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم مسلمان خاتون کا غیر مسلم خاتون سے میک اپ یا فیشل کروانا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا کوئی مسلمان خاتون غیر مسلم خاتون سے میک اپ یا فیشل کروا سکتی ہے؟ جواب قوانین شریعت کی رو سے جس طرح مسلمان عورت کا اجنبی مرد سے پردہ واجب ہے اسی طرح کا فرہ عورت سے بھی پردہ واجب ہے ، یعنی مسلمان عورت کا اپنے سر کے بالوں کا کوئی حصہ یا با زویا کائی یا گل وغیرہ کا فرہ عورت کے سامنے کھلا رکھنا، ناجائز وگناہ ہے ، لہذا غیر مسلم عورت سے مسلمان عورت کا ایسا میک اپ کروانا ، جس میں اسے مذکورہ اعضاء میں سے کوئی عضو کھولنا پڑے ، ناجائز ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.