Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
طلاقِ رجعی کی عدت میں گھر سے نکلنا اور زینت کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا رضا محمد عطارمی مدنی
- Fatwa no.
- 2553-Web
- Issued
- 29 ربيع الآخر 1447ھ / 23اکتوبر 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم طلاق رجعی کی عدت میں گھر سے نکنا اور زینت اختیار کرنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں نے یہ سنا ہے کہ عورت طلاق رجعی میں عدت میں ہوتے ہوئے بھی زینت و غیرہ کر سکتی ہے اور گھر سے باہر جانے کی بھی ممانعت نہیں کیا یہ درست ہے ؟ جواب جی نہیں ! یہ بات درست نہیں۔ شرعی حکم یہ ہے کہ طلاق رجعی کی عدت میں بھی عورت کو بلا اجازت شرعی گھر سے باہر نکلا جائز نہیں ۔ چنانچه صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : "جو عورت طلاق رجعی یا بائن کی عدت میں ہے ۔ ۔ ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.