Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ٹیوشن میں دینی تعلیم دینے پر اجرت کا کیا حکم ہے؟

Answered by
مولانا رضا محمد عطاری مدنی
Fatwa no.
2525-Web
Issued
19 ربیع الآخر 1447ھ / 13 اکتوبر 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم ٹیوشن کے دوران دینی تعلیم دینا بھی اجرت پر دین سکھا نا کہلائے گا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک عورت اسکول کی بچیوں کو 2 گھنٹے ٹیوشن پڑھاتی ہے جس کی وہ ماہانہ فیس بھی لیتی ہے اور اس وقت کے دوران فرض علوم جیسے وضو، غسل، نماز وغیرہ بھی سکھاتی ہے ، تو کیا یہ دین سکھانے پر اجرت لینا تو نہیں ہو گا جبکہ فیس صرف اسکول کی کتابوں کی لیتی ہے ؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.