Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مرد کے اقرار کرنے پر عورت کو بدکار کہنا کیسا؟

Answered by
مولانا رضا محمد عطاری مدنی دام الافيا الملت
Fatwa no.
2524-Web
Issued
19 ربیع الآخر 1447ھ / 13 اکتوبر 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم کسی مرد کے بد کاری کا اقرار کرنے پر خاتون کو بد کار کہنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی لڑکا قبول کر لے کہ اس نے فلاں عورت سے بدکاری کی ہے تو کیا ہم اس عورت کو بد کار بول سکتے ہیں ؟ جواب کسی کے یوں کہنے پر کہ اس نے فلاں عورت سے بدکاری کی ہے ، عورت کو بد کار کہنے کی ہر گز ہر گز اجات نہیں ، بلکہ یوں دل آزاری، غیبت وغیرہ کا معاملہ ہوگا، تو شرعاً یہ ناجائز و حرام ہے ۔ دل آزاری کی صورت میں اللہ پاک کی بارگاہ میں سچے دل سے تو بہ کے ساتھ ساتھ جس کی دل آزاری کی اس سے معافی بھی مانگنی ہوگی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.