Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

روزے میں زخم پر دوائی لگانا کیسا؟

Answered by
مولانا رضا محمد عطاری مدنی
Fatwa no.
2523-Web
Issued
17 ربیع الآخر 1447هـ / 11اکتوبر 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم روزے کی حالت میں زخم پر دوائی لگانا کیسا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) روزے کی حالت میں جسم پر موجود زخم پر دوائی لیکوئیڈیا پاؤڈر لگا نا جو مسام کے ذریعے خون میں شامل ہو کر در دوزخم سے شفا دیتا ہے ۔ تو کیا اس طرح روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں ؟ جواب روزہ ٹوٹنے کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ کوئی چیز پیٹ، دماغ یا منفذ یعنی پیٹ یا دماغ تک جانے والے راستوں میں داخل کی جائے جیسے آنکھ میں دوائی ڈالی یا ناک میں دوائی وغیرہ ڈالی۔ مسام کے ذریعے اندر جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.