Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دادی کا دودھ پیا ہو تو پھوپھی کی بیٹی سے نکاح جائز ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد ماجد رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2517-Web
- Issued
- 16 ربیع الآخر 1447هـ / 10 اکتوبر 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم دادی کا دودھ پیا ہو ، تو کیا پھوپھی کی بیٹی سے نکاح ہو سکتا ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص کو اس کی دادی نے مدت رضاعت میں دودھ پلایا تھا اور اس شخص کا اب کہیں رشتہ لگ نہیں رہا ہے تو کیا وہ اپنی سگی پھوپھو کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے ؟ جواب پوچھی گئی صورت میں وہ شخص پھوپھی کی بیٹی سے نکاح نہیں کر سکتا کیونکہ جب اس شخص کو اس کی دادی نے مدت رضاعت میں اپنا دودھ پلا دیا تو دادی اس کی رضاعی ماں بن گئی اور پھوپھی اس کی رضاعی بہن اور پھوپھی کی بیٹی رضاعی بھانجی بن گئی ۔ اور جس طرح سگی بھانجی سے نکاح کرنا حرام ہے اسی طرح رضاعی بھانجی سے بھی نکاح کرنا حرام ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.