Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شور والی جگہ نماز پڑھنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2542-Web
- Issued
- 11 ربع الآخر 1446 / 15 اکتوبر 2024. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم شور و غل والی جگہ نماز پڑھنا جبکہ اور جگہ نہ مل رہی ہو دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی عورت کو اپنے گھر کے علاوہ اور کوئی جگہ نہ ملے اور گھر میں شور ہو رہا ہو تو کیا وہ شور میں ہی نماز پڑھ لے ؟ جواب جہاں بہت زیادہ شور ہورہا ہے ، وہاں نماز پڑھنا شرعاً مکروہ و نا پسندہ ہے، لہذا یا تو ایسی جگہ نماز پڑھیں جہاں شور کی وجہ سے خوش و خضوع میں خلل نہ آئے یا پھر کچھ ٹائم کے لئے گھر والوں کو چپ کروایا جائے، البتہ اگر شور میں ہی نماز پڑھ لی تو ادا ہو جائے گی، دوہرانے کی حاجت نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.