Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آنکھ سے نکلنے والا پانی کب ناپاک ہوتا ہے؟

Answered by
مولاناسید مسعود علی عطاری مدنی
Fatwa no.
2541-Web
Issued
09 ربيع الآخر 1446ھ /13اکتوبر 2024ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم آنکھ میں درد، جلن ہو پھر خود ہی ٹھیک ہو جائے ، اس حالت میں نکلنے والی پانی کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) آنکھ میں کبھی در دیا جلن ہو پھر خود ہی ٹھیک ہو جائے ، غالب گمان ہو کہ مرض کی وجہ سے نہیں ہے تو کیا اس حالت میں آنکھ سے نکلنے والے پانی کو پاک سمجھا جائے گا ؟ جواب آنکھ سے نکلنے والا ہر پانی ناپاک نہیں ہوتا اور نہ ہی وضو توڑتا ہے ، بلکہ اصول یہ ہے کہ آنکھ سے کسی بیماری یا زخم کی وجہ سے نکلنے والا پانی ناپاک ہے، بغیر بیماری و زخم کے ویسے ہی نکنے والا پانی ناپاک نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.