Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازوں کا فدیہ مسجد میں دینا کیسا؟
- Answered by
- مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2539-Web دام الافيا اهلسنت
- Issued
- 10 ربیع الآخر 1446ھ /14اکتوبر 2024ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم فوت شدہ شخص کی نمازوں کا فدیہ مسجد میں دیں یا کہیں اور ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص نے وصیت کی تھی کہ مرنے کے بعد اس کی نمازوں کا فدیہ ادا کر دیا جائے ۔ اب اس کا انتقال ہو گیا اور نمازوں کا فدیہ دینا چاہتے ہیں ، تو کس کس جگہ دے سکتے ہیں؟ کیا مسجد میں دے سکتے ہیں ؟ جواب مرحوم کی نمازوں کا فدیہ مسجد میں نہیں دے سکتے ، شرعی فقیر و غیرہ کسی مصرف زکوۃ کو ہی دینا لازم ہوگا ۔ کیونکہ اس کے مصارف وہی ہیں، جو زکوۃ ، فطرہ وغیرہ صدقات واجبہ کے ہیں ۔ ہاں شرعی فقیر لینے کے بعد اگر خود اپنی مرضی سے مسجد میں دے دے تو اس میں حرج نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.