Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا زکوٰۃ کا وکیل اپنی رقم سے زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے؟
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2419-Web
- Issued
- 25 صفر المظفر 1447 - / 20 اگست 2025
Answer (beginning)
بسم الله الرحمن الرحيم زکوۃ کے وکیل نے اپنی رقم سے زکواۃ ادا کر دی اور زکواۃ والی رقم خود رکھ لی ، تو کیا حکم ہے ؟ سوال دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی ہمیں کسی کو دینے کے لئے زکوۃ کی رقم دے، تو کیا ہمیں وہی رقم جا کر دینی ہوگی یا ہم آن لائن اپنے اکاؤنٹ سے اس شخص کور قم بھیج دیں اور وہ زکواۃ کی رقم ہم اپنے پاس رکھ لیں ؟ جواب اگر زکوۃ دینے والے کی رقم اپنے پاس رکھ لی، ابھی استعمال نہیں کی ، استعمال کرنے سے پہلے ، اپنی ذاتی رقم اپنے اکاؤنٹ سے اس کی زکوۃ میں اس نیت سے دی کہ اس کی رقم میں رکھ لوں گا، تو اس صورت میں زکوۃ ادا ہو جائے گی ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس کے بر عکس کیا تو نا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.