Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا بارش کی وجہ سے جماعت چھوڑ کر گھر میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2418-Web
- Issued
- 25 صفر المظفر 1447 / 20 اگست 2025
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم بارش کے دوران جماعت کا وقت ہو جائے ، تو کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء المسنت (دعوت اسلامی) بارش کے دوران وقت جماعت ہو تو اب بھی مردوں پر جماعت واجب رہے گی ؟ جواب اگر مسجد قریب ہو اور راستے میں شدید بارش یا کچھڑ وغیرہ ایسا حائل نہ ہو جس کی وجہ سے مسجد تک پہنچنے میں مشقت ہو تو اس صورت میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے ، جبکہ ترک جماعت کا کوئی اور عذر نہ ہو۔ اور اگر بارش کی شدت یا راستے کی کیچڑ وغیرہ کی وجہ سے مسجد جانا دشوار ہو تو اس صورت میں گھر میں نماز ادا کی جاسکتی ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.