Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حج کی رمی کب کی جاتی ہے؟

Answered by
مولانا محمد ماجد رضا عطاری مدنی
Fatwa no.
2452-Web
Issued
03 ربیع الاول 1446ھ/08 ستمبر 2024ء علم الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم حج کی زمی کا حکم اور یہ کب کب کی جاتی ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا حج میں رمی کرنا واجب ہے ؟ اور یہ کتنی دفعہ اور کس تاریخ کو کی جائے گی ؟ جواب دس، گیارہ اور بارہ ذوالحجہ تینوں دنوں میں سے ہر دن کی زمی الگ الگ واجب ہے ۔ پہلے دن صرف جمرۃ العقبہ کو زمی کی جائے گی جبکہ باقی دو دن تینوں جمروں کی رمی کرنی ہوگی ۔ ہر جمرے کو سات سات کنکریاں مارنا بھی واجب ہے ۔ پہلے دن کی رمی کا وقت دسویں تاریخ کی فجر کا وقت شروع ہونے سے گیارہویں کی فجر کا وقت شروع ہونے تک ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.