Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

طلاق کے بعد بچے کس کے پاس رہیں گے؟

Answered by
مولانا رضا محمد عطاری مدنی
Fatwa no.
2511-Web
Issued
14 ربیع الآخر 1447ھ / 08اکتوبر 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم طلاق ہو جانے کی صورت میں بچے کس کے پاس رہیں گے دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میاں بیوی میں طلاق ہو جانے کی صورت میں بچے کے پاس رہیں گے ؟ جواب طلاق ہو جانے یا میاں بیوی کے علیحدہ ہونے کی صورت میں اولاد کا حق پرورش کس کو ہوگا، اس حوالے سے کچھ تفصیل ہے کہ لڑکا ہو تو اس کی عمر سات سال مکمل ہونے تک اُس کی پرورش کا حق ماں کو ہوتا ہے (جبکہ حق پرورش ساقط کرنے والا کوئی عمل نہ پایا جائے مثلاً ماں نے بچوں کے غیر محرم سے نکاح کر لیا تو اب بچوں کی پرورش کا حق ان کی ماں کو نہیں ملے گا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.