Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام صرف السلام بلند آواز سے کہے تو نماز ہوجائے گی؟
- Answered by
- مولانا رضا محمد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2508-Web
- Issued
- 13 ربیع الآخر 1447هـ / 07 اکتوبر 2025. DaruliftaAhlesunnat
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم امام نے لفظ السلام تیز آواز میں اور بقیہ الفاظ آہستہ کہے ، نماز کا کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) امام جماعت کے ساتھ نماز پڑھا رہا تھا ، امام نے سلام پھیرتے ہوئے لفظ السلام تیز آواز سے کہا اور بقیہ الفاظ آہستہ کہے جو مقتدیوں نے نہیں سنے ، اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہے ؟ جواب امام کا بلند آواز میں سلام کہنا فرض یا واجب نہیں کہ اس کا ترک ہوا تو نماز ہی نہ ہو یا نماز ناقص ہو البتہ سنت یہ ہے کہ امام دونوں طرف سلام بلند آواز سے کہے مگر دوسری طرف سلام به نسبت پہلے سلام کے قدرے پست آواز سے کہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.