Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نکاح کے وکیل کا آگے وکیل بنانا کیسا؟

Answered by
مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
Fatwa no.
2506-Web
Issued
14 ربیع الآخر 1447 هـ / 08 اکتوبر 2025. دار الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم وکیل نکاح کا آگے نکاح خواں کو وکیل بنانا اور اس کا نکاح پڑھانا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر عورت کا وکیل نکاح پڑھانے کی اجازت اس طور پر لایا کہ نکاح پڑھانے کے لیے دوسرے کو وکیل بنا سکتا ہے اور پھر نکاح خواں کو کہہ کر اس سے نکاح پڑھوا دیا ، تو کیا اس طرح نکاح ہو جائے گا ؟ جواب پوچھی گئی صورت کے مطابق نکاح درست ہو جائے گا جبکہ کوئی اور مانع نکاح بات نہ پائی جائے ۔ تفصیل یہ ہے کہ نکاح کے وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ وہ دوسرے سے نکاح پڑھوا دے ۔ ہاں !اگر عورت دوسرے شخص کو وکیل بنانے کی بھی اجازت دے دے تواب وکیل دوسرے شخص مثلا نکاح خواں کو بھی وکیل بنا سکتا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.