Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تجارت کی نیت سے خریدے گئے مکان کے کرائے پر زکوٰۃ ہوگی؟
- Answered by
- مولانا رضا محمد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2503-Web
- Issued
- 12 ربیع الآخر 1447هـ / 06اکتوبر 2025ء
Answer (beginning)
بسم الله الرحمن الرحيم تجارت کے لئے خریدا گیا مکان کرائے پر دیا ، تو کرایہ خود استعمال کر سکتے ہیں یا اس کو زکوۃ میں ادا سوال کرنا ہوگا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جو مکان تجارت کے لئے خریدا ہو اس کو اجارہ پر دینے سے اس اجرت کا مالک خود اپنے لیے استعمال کر سکتا ہے یا اس کو مکان کی مالیت سے ملا کر زکواۃ ادا کرنی ہوگی ؟ جواب پوچھی گئی صورت میں اس مکان سے حاصل ہونے والا کرایہ خود استعمال کر سکتے ہیں۔ نیز تجارت کی نیت سے خریدا ہوا مکان ، جب کرایہ پر دے دیا تو اب وہ مالِ تجارت ہونے سے نکل گیا، یعنی اب اس مکان پر مالِ تجارت ہونے کے اعتبار سے زکواۃ لازم نہیں ہوگی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.