Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میلاد پر بکرا ذبح کرنے کی نیت منت شمار ہوگی؟
- Answered by
- مولانا عابد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2500-Web
- Issued
- 05 ربيع الآخر 1447ھ /29 ستمبر 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم یہ کہنا کہ میلاد شریف پر بکرا ذبح کروں گا ، اس سے بکرا ذبح کرنا لازم نہیں ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص کے پاس بکرا تھا، اس نے یہ جملہ کہا کہ "میلاد شریف میں یہ بکرا ذبح کروں گا ، تو کیا میلاد شریف پر وہی بکرا ذبح کرنا ضروری ہے یا اس کی جگہ کوئی اور بکرا ذبح کر سکتا ہے ؟ جواب فقط یہ کہنا کہ "میلاد شریف میں یہ بکرا ذبح کروں گا “ یہ بکرا ذبح کرنے کی نیت ہے ، منت نہیں کیونکہ منت کے مخصوص الفاظ و معنی نہیں پائے جارہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.