Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سنت مؤکدہ نماز بیٹھ کر پڑھنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2499-Web
- Issued
- 05 ربيع الآخر 1447ھ /29 ستمبر 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم سنتِ مؤکدہ نماز بیٹھ کر پڑھنا کیسا ؟ کیا سنت موکدہ نماز بیٹھ کر ادا کرنے سے ہو جائے گی ؟ جواب دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سنت فجر میں قیام ضروری ہے بلا عذر بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے، اگر پڑھیں تو ادا نہیں ہوں گی ۔ نیز تراویح بلا عذر بیٹھ کر پڑھنا مکروہ ہے بلکہ بعض کے نزدیک تو ہوگی ہی نہیں ۔ لہذا عذر نہ ہو تو تراویح بھی کھڑے ہو کر ادا کی جائے ۔ ان کے علاوہ بقیہ سنن مؤکدہ کو بلا عذر بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے، لیکن افضل یہ ہے کہ عذر نہ ہو تو سنت مؤکدہ ، غیر مؤکدہ اور دیگر نوافل بھی کھڑے ہو کر ہی ادا کیے جائیں، کیونکہ بلا عذر بیٹھ کر پڑھنے سے ثواب کم ہو جاتا ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.