Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قربانی کے لیے جمع کی گئی رقم خرچ ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

Answered by
مولاناسید مسعود علی عطاری مدنی
Fatwa no.
2412-Web
Issued
24 صفر المظفر 1447ھ / 19 اگست 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم قربانی کی نیت سے جمع کئے گئے پیسے خرچ ہو گئے، تو کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک بیوہ خاتون ہے ان کا ایک اپنا گھر ہے جو کہ انہوں نے کرائے پر دیا ہوا ہے اور اس کرائے سے وہ اپنے اخراجات پورے کرتی ہیں ، کرائے سے کچھ رقم بچا بچا کر ان کے پاس 25 ہزار جمع ہوئے تھے ، ان کی نیت تھی کہ میں اس سے قربانی کروں گی لیکن وہ رقم ان کے اخراجات میں ختم ہو گئی اب ان کے لئے کیا حکم ہے ؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.