Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

خالہ کی بیٹی کی بیٹی سے نکاح کا حکم

Answered by
مولاناسید مسعود علی عطاری مدنی
Fatwa no.
2423-Web
Issued
28 صفر المظفر 1447 / 23 اگست 2025 دار الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم خالہ کی بیٹی کی بیٹی سے نکاح کرنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اپنی خالہ کی بیٹی کی بیٹی یعنی خالہ کی نواسی سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب لڑکے کا اپنی خالہ کی بیٹی کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے بشر طیکہ ان کے درمیان کوئی اور وجہ حرمت مثلا رضاعت یا مصاہرت و غیره نه خالہ کی بیٹی کی بیٹی حرام کردہ رشتوں کے علاوہ ہے چنانچہ الدر المنتقی فی شرح الملتقى مع مجمع الانہر میںاور بنا یہ شرح ہدایہ میں ہے : ”حرم الله العمة والخالة ولم يحرم بناتهما وكذا اولادهم وان سفلوايجوز التناكح فيما بينهم “ ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے پھوپھی اور خالہ کو حرام قرار دیا اور ان دونوں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.