Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
علانیہ گناہ کی توبہ اکیلے میں کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2422-Web
- Issued
- 27 صفر المظفر 1447 - 221 اگست 2025 دار الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم علانیہ گناہ کی تو بہ اکیلیے میں کی تو کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص اپنے علانیہ گناہ سے تو بہ صرف اکیلے میں کرے اور علانیہ تو بہ نہ کرے ، تو کیا حکم ہے ؟ جواب اگر کوئی شخص اپنے علانیہ گناہ سے صرف اکیلے میں توبہ کرلے اور علانیہ تو بہ نہ کرے ، توظاہری اعتبار سے ایسے شخص کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ اس نے تو بہ نہیں کی ہے نیز مخلوق کے اعتبار سے اس کا حکم تو بہ کرنے سے پہلے والا ہی رہے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.