Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اعضائے وضو کے علاوہ کوئی حصہ پانی میں جائے تو حکم
- Answered by
- مولاناسید مسعود علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2400-Web
- Issued
- 23 محرم الحرام 1447ء 19 جولائی 2025. دار الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم بے وضو حالت میں اعضائے وضو کے علاوہ کوئی حصہ پانی میں گیا، تو وہ مستعمل ہوگا یا نہیں دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کا وضو نہیں ، لیکن اس پر غسل فرض نہیں، تو اگر اس کی ران یا کوئی ایسا عضو جس کا وضو میں دھونا فرض نہیں جیسے عورت کے پچھلے بال ، پانی میں گئے ، توکیا پانی مستعمل ہو جائے گا ؟ جواب جس بے و منو شخص پر غسل فرض نہیں اس کاران یا کوئی ایسا حصہ جس کا وضو میں دھونا ضروری نہیں ، پانی میں پڑ جائے تو اس سے پانی مستعمل نہیں ہوگا اور وضو میں مسح کا مقام سر کی کھال یا اس پر موجود بال ہیں، ان پر ہی مسح ہو گا، سر سے لٹکے ہوئے بالوں پر مسح نہیں ہوتا لہذا لٹکے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.