Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مستعمل پانی پینا کیسا ہے، جائز ہے یا نہیں؟
- Answered by
- مولانا رضا محمد مدنی
- Fatwa no.
- 2388-Web
- Issued
- 07 رجب المرجب 1447ھ /28دسمبر 2025ء
Answer (beginning)
سوال سم الله الرحمن الرحيم بسم مستعمل پانی پی سکتے ہیں یا نہیں ؟ دار الافتاء المسنت (دعوت اسلامی) مستعمل پانی پینے کا کیا حکم ہے ؟ کیا یہ مکروہ تحریمی ہے ؟ جواب صحیح قول کے مطابق مستعمل پانی پاک ہے ، البتہ اس کو پینے یا کھانے وغیرہ میں استعمال کرنا مکروہ تنزیہی ہے ۔ در مختار میں ہے : "هو طاهر وهو الظاهر لكن يكره شربه والعجن به تنزيها للاستقذار“ ترجمہ : ظاہر قول کے مطابق مستعمل پانی پاک ہے ، لیکن اس کا پینا اور اس سے آٹا گوندھنا، مکروہ تنزیہی ہے ، کیونکہ اس سے گھن آتی ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.