Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسجد میں اذان و اقامت کے بغیر نماز پڑھ لی، کیا نماز ادا ہو جائے گی؟
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی دار الافتاء اهلسنت
- Fatwa no.
- 2386-Web
- Issued
- 17 صفر المظفر 1447 / 12 اگست 2025
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم مسجد میں اذان و اقامت کے بنا نماز پڑھ لی، تو کیا حکم ہے؟ دار الافتاء المسنت (دعوت اسلامی) گاؤں کی ایک بستی میں مؤذن کے غیر حاضر ہونے اور امام کے تاخیر سے آنے کی وجہ سے اذان و اقامت کے بغیر جماعت قائم ہوگئی۔ بعد میں امام کو معلوم ہوا تو کیا وہ نماز ہوگئی ؟ کیا بستی والے گناہگار ہوئے ؟ جواب پوچھی گئی صورت کے مطابق اگر چہ نماز تو ہوگئی ہے ، اسے دہرانے کی حاجت نہیں ، تاہم جنہوں نے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھی ان سب پر توبہ و استغفار کرنا اور آئندہ ایسا کرنے سے بچنا شر عالازم ہے ، کیونکہ مردوں کیلئے مسجد میں فرائض کی جماعت اولیٰ اذان واقامت کے بغیر مکروہ وگناہ ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.