Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

روزے میں بے ہوش شخص کو پانی پلانا گناہ ہے؟

Answered by
مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
Fatwa no.
2370-Web
Issued
27 صفر المظفر 1447 / 22 اگست 2025

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم روزہ کی حالت میں بے ہوش ہو جانے والے کو پانی پلانے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی روزے کی حالت میں بے ہوش ہو کر گر جائے، تو کیا اس کو پانی پلا سکتے ہیں ؟ گناہگار تو نہیں ہوں گے ؟ جواب پوچھی گئی صورت میں اگر کسی طرح ہوش نہیں آتا اور پانی پلانا ضروری ہو جائے کہ نہ پلایا تو جان و غیرہ کو خطرہ ہو تو پلانے میں حرج نہیں اور جب تک ضروری نہ ہو تو ایسا کوئی کام نہ کیا جائے جس سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے بلکہ ہوش میں لانے کے دیگر طریقے اختیار کیے جائیں، مثلاً اس کے چہرے پر پانی یوں احتیاط سے ڈالیں کہ اس کے منہ اور ناک کے ذریعے حلق میں نہ جائے ، کہ کبھی معمولی بے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.