Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

خراش پر خون چمکے مگر نہ بہے تو کیا وہ ناپاک ہے؟

Answered by
مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
Fatwa no.
2367-Web
Issued
23 صفر المظفر 1447 هـ / 18 اگست 2025

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم حادثے میں جسم پر خراش آنے پر خون چمکا لیکن بہا نہیں ، تو کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حادثے میں کسی عضو پر رگڑ کے باعث خراش آجاتی ہے تو اس جگہ خون نمودار ہوتا ہے مگر یہ خون کچھ ایسا ہوتا ہے کہ اس عضو کو بلایا جائے تب بھی گرتا نہیں ہے ، اسی جگہ چپکا سارہتا ہے ۔ ایسا خون ناپاک ہے یا نہیں ؟ جواب پوچھی گئی صورت میں خون جو خراش پر ظاہر ہوا مگر یہا نہیں وہ پاک ہے کیونکہ خون جب تک بدن کے اندر ہو اس پر ناپاکی کا حکم نہیں ایتھا اگرچہ خراش وغیرہ کے سبب کچھ کھال ہٹ جانے سے نظر آنے لگے جیسے کانٹایا سوئی کی نوک لگنے سے معمولی سا خون ابھریا چمک جاتا ہے مگر بہتا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.