Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فجر سے ظہر اور عصر سے مغرب مسلسل تلاوت قرآن کرنا
- Answered by
- مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2376-Web
- Issued
- 12 صفر المظفر 1447 / 07 اگست 2025
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم فجر سے ظہر تک اور عصر سے مغرب تک مسلسل تلاوت قرآن کرنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا عصر کے بعد مغرب تک قرآن کی تلاوت کر سکتے ہیں ؟ اور فجر سے مسلسل ظہر تک قرآن پاک کی تلاوت کر سکتے ہیں ؟ جواب فجر سے ظہر اور عصر سے مغرب تک بیچ میں تین مکروہ اوقات آتے ہیں (سورج طلوع ہونے سے تقریباً 20 منٹ بعد تک، سورج ڈوبنے سے پہلے کے تقریباً 20 منٹ اور ضحوہ کبری یعنی نصف النہار شرعی کے وقت ، جسے عوام زوال کا وقت کہتی ہے ) ان اوقات میں نماز جائز نہیں اور تلاوت قرآن کریم خلاف اولیٰ ہے، لہذا خاص ان اوقات میں تلاوت کرنے کے بجائے ذکر و اذکار و تسبیحات پڑھنا بہتر ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.