Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عقیقہ کے دو حصے الگ جانور میں ڈالنے کا حکم کیا ہے؟
- Answered by
- مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2341-Web
- Issued
- 20 ذوالحجۃ الحرام 1446 هـ / 17 جوان 2025. Darulifta Ahlesunnat
Answer (beginning)
بسم الله الرحمن الرحيم عقیقہ کے دو حصے الگ الگ جانور میں ڈالنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال لڑکے کا عقیقہ کرنے کی صورت میں اس کی طرف سے ایک حصہ ایک گائے میں اور دوسراحصہ دوسری گائے میں ڈالا جائے ، تو کیا اس طرح کرنا درست ہے ؟ جواب جی ہاں ! دیگر شرعی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے لڑکے کے عقیقے کا ایک حصہ ایک گائے میں اور دوسرا حصہ دوسری گائے میں رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.