Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا سر سے جما ہوا خون نکلنے سے وضو ٹوٹتا ہے؟
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2340-Web
- Issued
- 19 ذوالحجۃ الحرام 1446ء / 16 جون 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم سر سے جما ہوا خون نکلنے کی صورت میں وضو کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جما ہوا خون اگر سر سے اتر ے تو وہ ناقض وضو نہیں ہے ۔ اس مسئلے کی وضاحت فرما دیجئے ۔ جواب خون جب جسم سے نکل کر ہے تو وضو کے ٹوٹنے کا حکم ہے اور یہ بھی اس وقت کہ جب اس بہنے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت ہو کہ جس کا وضو، غسل میں دھونا فرض ہے ۔ جما ہوا خون چونکہ اس اصول سے خارج ہے یعنی اگر چہ ہے تو یہ بھی نجس ، مگر اس میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ ہے اور اس جگہ پہنچے کہ جس کا وضو، غسل میں دھونا فرض ہے اس لئے کتب فقہ میں اس متعلق بالتصریح یہی فرمایا کہ چاہے یہ (جما ہوا خون ) سر سے نکلے یا ناک…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.