Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا چھینک کا جواب دینے کے لیے کسی کو وکیل بنایا جا سکتا ہے؟

Answered by
مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
Fatwa no.
2336-Web
Issued
19 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ /16 جون 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم چھینک کا جواب دینے پر کسی کو وکیل بنانا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) چھینک کا جواب دینے پر وکیل بنایا جاسکتا ہے ؟ ایک کمرے میں دو افراد موجود تھے ایک کو چھینک آئی اور اس نے حد کی تو، زید اسی وقت کمرے میں داخل ہونے والے کسی شخص کو وکیل بنا سکتا ہے کہ وہ زید کی جگہ یرحمک اللہ کہہ دے ؟ جواب جی نہیں !خود جواب دینا ہو گا اور وہ بھی فی الفور ، کہ اس میں تاخیر کرنا گناہ ہے ، اگر تاخیر کی ، تو تو بہ بھی کرنی ہوگی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.