Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرض دینے کے بعد معاف کرنا کیا قرضِ حسنہ شمار ہوگا؟

Answered by
مولانا عابد عطاری مدنی
Fatwa no.
2334-Web
Issued
17 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ /14 جون 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم قرض دینے کے بعد معاف کر دیا، تو کیا یہ قرض حسنہ کہلائے گا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ماموں نے قرض دیا اور تقریباً دو دن میں ہی معاف کر دیا تو کیا یہ قرض حسنہ کہلائے گا ؟ جواب ہمارے عرف میں بلا میعاد اور غیر سودی قرض کو بھی قرض حسن یا قرض حسنہ کہتے ہیں جو ایک آسان اور زم قرض ہوتا ہے کہ جس میں قرض دینے والا یہ سہولت دیتا ہے کہ جب آسانی ہو یا جب چاہے دے دینا ۔ ماموں نے آپ کو بلا میعاد غیر سودی قرض دیا تو واقعی عرفاً قرض حسن ہے اور پھر جب انہوں نے مزید مہربانی کرتے ہوئے اسے معاف کر دیا تو اس کا انہیں مزید بھی ثواب ملے گا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.