Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تھکن کی وجہ سے رَمی چھوڑنے کا حکم؟

Answered by
مولاناسید مسعود علی عطاری مدنی
Fatwa no.
2331-Web
Issued
15 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ /12 جون 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم تھکاوٹ کی وجہ سے حج میں زمی نہیں کی، تو کیا حکم ہے ؟ دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حج کرنے گئے اور تھکاوٹ کی وجہ سے زمی نہیں کی ، تو کیا حکم ہے ؟ جواب پوچھی گئی صورت میں اب اس حاجی پر ایک چھوٹا جانور یعنی بکرا یا دنبہ حدود حرم میں قربان کروانا واجب ہے اور توبہ کرنا بھی واجب ہے ۔ وقار الفتاوی میں ہے : "آرمی ایک دن کی چھوٹ جائے یا تینوں دن کی ، ایک شیطان کی چھوٹے یا تینوں کی ، ایک قربانی واجب ہوگی اور یہ قربانی زمین حرم پر واجب ہے لہذا کسی جانے والے کو روپیہ دے دیں وہ مکہ میں جاکر یہ قربانی کردے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.