Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت کا مرد اور مرد کا عورت کی طرف سے حج بدل کرنا
- Answered by
- مولانا عابد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2347-Web
- Issued
- 28 ذو القعدة الحرام 1446ھ / 26 مئی 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم کیا عورت مرد اور مرد عورت کی طرف سے حج بدل کر سکتا ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا خاتون مرد کی طرف سے یا مردخا تون کی طرف سے حج بدل کر سکتا ہے ؟ جواب حج بدل کی باقی تمام شرائط پائی جائیں تو عورت، مرد کی طرف سے اور مرد، عورت کی طرف سے حج بدل کر سکتا ہے البتہ افضل یہ ہے کہ ایسے شخص کو بھیجیں جو حج کے طریقے اور اُس کے افعال سے آگاہ ہو اور بہتر یہ ہے کہ مرد ہو اور اگر عورت یا مراہق یعنی قریب البلوغ بچے سے حج کرایا جب بھی ادا ہو جائے گا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.