Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قربانی کے جانور میں رسولی ہو تو کیا حکم ہے ؟

Answered by
مولانا محمد ماجد رضا عطارمی مدنی
Fatwa no.
2327-Web
Issued
30 ذوالقعدة الحرام 1446ھ /28 مئی 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم جس جانور کے جسم میں رسولی ہو، اس کی قربانی کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جس جانور کے جسم میں رسولی ہو، اس کی قربانی کرنا کیسا ؟ جواب اگر اس رسولی نے جانور کے کسی عضو کی منفعت کو ضائع نہیں کیا تو اس کی قربانی جائز ہوگی، اور اگر کسی عضو کی منفعت کو ضائع کر دے تو اس کی قربانی جائز نہیں ہوگی ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے : "كل عيب يزيل المنفعة على الكمال، أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية ، ومالا يكون بهذه الصفة لا يمنع “ یعنی وہ عیب جو منفعت کو مکمل طور پر ختم کر دے یا اس کی خوبصورتی کو کامل طور پر ختم کر دے، قربانی سے مانع ہو گا، اور جو عیب ایسا نہ ہو وہ قربانی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.