Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچپن میں چوری کی تھی اور اب بالغ ہوگیا تو کیا حکم ہے؟
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2326-Web
- Issued
- 29 ذو القعدة الحرام 1446ھ / 27 مئی 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم بچپن میں کوئی چیز چوری کی تھی، اب بالغ ہو گئے ، تو کیا حکم ہے دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی شخص نے اپنے بچپن میں کوئی چیز چوری کی تھی ، اب بالغ ہو گیا، تو ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے ؟ جواب چوری کرنا ، ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ، البتہ نا بالغ چونکہ شرعی احکامات کا مکلف نہیں ہوتا ، اس لئے پوچھی گئی صورت میں وہ گناہگار نہیں، لیکن اس نے جو چیز چوری کی ہے ، وہ اگر موجود ہو تو اسے مالک تک پہنچا نا ضروری ہے اور اگر وہ موجود نہ ہو تو پھر اس کا تاوان اس پر ضرور لازم ہوگا ، جو اصل مالک کو ادا کیا جائے گا ، اور اگر اصل مالک نہ رہا ہو، تو اس کے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.