Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حطیمِ کعبہ میں نماز اور انبیائے کرام کی قبروں کا مسئلہ
- Answered by
- مولانا عابد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2325-Web
- Issued
- 28 ذو القعدة الحرام 1446ھ / 26 مئی 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم حطیم کعبہ میں نماز پڑھنا کیسا جبکہ وہاں پر انبیائے کرام کی قبریں موجود ہیں دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حطیم کعبہ میں انبیاء کرام کے مزارات ہیں، تو وہاں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ واب حظیم اور کعبہ معظمہ کے دیگر حصوں میں نماز پڑھنا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے لے کر آج تک رائج ہے ، یہاں نماز پڑھنے کی ممانعت کہیں وارد نہیں ہوئی لہذا یہاں نماز پڑھ سکتے ہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.