Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دل میں حسد ہو تو توبہ کیسے کی جائے؟
- Answered by
- مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2338-Web
- Issued
- 11 محرم الحرام 1447 / 07 جولائی 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Answer (beginning)
بسم الله الرحمن الرحيم جس کے دل میں حسد ہو وہ تو بہ کس طرح کرے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال اگر کسی کے دل میں کسی شخص کے لیے جلن ہو اور اسے اس بات کا احساس ہو جائے تو وہ کس طرح تو بہ کرے گا؟ کیا اسے سامنے والے کو بتانا ہوگا کہ وہ اس سے جلتا ہے اور اس سے معافی مانگنی ہوگی ؟ جواب بلاوجہ شرعی مسلمان سے متعلق دل میں حسد جلن یا دشمنی رکھنا جائز نہیں۔ اگر کسی مسلمان کے بارے میں ایسا معاملہ ہو تو اسے بتانے کی ضرورت نہیں بلکہ خودا اپنے دل سے اس چیز کو دور کرنے کی کوشش کرے اور بارگاہِ الہی میں اپنے لیے اس باطنی بیماری سے نجات اور جس سے حسد ہو گیا ، اس مسلمان کے لیے بھلائی کی دعا کرے نیز اس…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.