Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سجدہ سے اٹھتے وقت دو بار تکبیر کہنے کا حکم؟

Fatwa no.
2299-Web
Issued
14 ذو القعدة الحرام 1446 / 12 مئی 2025 ء

Question

سجدہ سے اٹھتے ہوئے دوبار تکبیر کہ لی، تو کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) جب ہم سجدے سے سر اٹھاتے ہیں تو اللہ اکبر کہتے ہیں ، کیا اس کے بعد سیدھا کھڑا ہونے کے لیے بھی اللہ اکبر کہیں گے ؟ اور اگر سیدھا کھڑے ہونے کے لیے کوئی اللہ اکبر کہہ دے ، تو کیا حکم ہوگا ؟ جواب

Answer (beginning)

سنت یہ ہے کہ سجدے سے سر اٹھاتے وقت تکبیر شروع کرے اور تکبیر کہتا ہوا کھڑا ہواور یہ تکبیر قیام کے لئے سیدھا ہونے پر مکمل ہو، کھڑے ہونے کے لئے الگ سے تکبیر نہیں کہی جائے گی، لیکن کسی نے کہہ لی تو نماز اس کی بھی بغیر سجدہ سہو کے ادا ہو جائے گی تاہم ایسا کرنا سنت کے خلاف ہے اس لیے اس سے بچیں۔ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : "سنت یہ ہے کہ سمع اللہ کا سین رکوع سے سر اٹھانے کے ساتھ کہیں اور حمدہ کی سیدھا ہونے کے ساتھ ختم ، اسی طرح ہر تکبیر انتقال میں حکم ہے کہ ایک فعل سے دوسرے فعل کو جانے کی ابتداء کے ساتھ اللہ اکبر کا الف شروع ہو اور ختم کے ساتھ ختم ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.