Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عین الحیات نام کا مطلب نیز اسکا حکم

Answered by
مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
Fatwa no.
2301-Web
Issued
26 ذوالقعدة الحرام 1446ھ /24 مئی 2025ء

Question

عین الحیات نام رکھنا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا عین الحیات اور ایل “ نام رکھنا صحیح ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

عین الحیات کا مطلب ہے : زندگی کا چشمہ ۔ اس نام میں حرج نہیں ۔ اور ایزل انگلش کا لفظ ہے ، اس کا معنی ہے : تصویر وغیرہ کو سہارا دینے کے لئے تین ٹانگوں کا لکڑی کا اسٹینڈ، لکڑی کا ٹیکن۔ یہ نام معافی کے لحاظ سے مناسب نہیں اور نہ ہی مسلمانوں میں رائج ہے ۔ اس لئے یہ نام رکھنے سے بچا جائے ، اس کے بجائے صحابیات اور نیک خواتین اسلام کے ناموں پر نام رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اس کی ترغیب دلائی گئی الفردوس بماثور الخطاب میں ہے : ” تسموا بخیار کم “ترجمہ : اچھوں کے ناموں پر نام رکھو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.