Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
احرام کی حالت میں وضو یا دعا میں چہرے پر ہاتھ پھیرنا
- Fatwa no.
- 2288-Web
Question
حالت احرام میں وضو کرتے ہوئے یا دعا کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیر نے کا حکم ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) حالت احرام میں اگر کوئی وضو کے دوران منہ دھوتے ہوئے منہ پر پانی ڈال کر ہاتھ پھیر لے یا دعا کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیر لے ، تو کیا اس صورت میں کوئی کفارہ لازم ہو گا ؟ جواب
Answer (beginning)
احرام کی حالت میں منہ دھوتے ہوئے یا دعا کرنے کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیر نے سے کوئی کفارہ لازم نہیں آئے گا۔ لباب المناسک میں مباحات احرام بیان کرتے ہوئے لکھا ہے : ووضع يده اویده غیره على راسه او انفه ای بالاتفاق، لانه لا یسمی لابساللراس ولامغطياللانف“ ترجمہ : اپنا یا دوسرے کا ہاتھ سر یا ناک پر رکھنے میں بالاتفاق کوئی حرج نہیں، کیونکہ ایسا کرنے والے کو سر پر کچھ پہننے والا یا ناک کو چھپانے والا نہیں کہا جاتا ۔ (باب المناسک، باب الاحرام ، صفہ 174 ، مطبوعہ : پشاور) فتاوی رضویہ میں ہے : یہ باتیں احرام میں جائز ہیں ....... سر یا ناک پر اپنا یا دوسرے کا ہاتھ رکھنا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.