Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

انڈیا سے جانے والا حج افراد کرسکتا ہے؟

Answered by
مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
Fatwa no.
2287-Web

Question

ہند سے جانے والا حج افراد کر سکتا ہے یا نہیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی ہند سے حج کرنے جائے ، توکیا وہ حج افراد کر سکتا ہے ؟ نیز اگر یہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر جائے اور عمرہ کرے پھر آٹھ ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھے ، تو کیا یہ حج افراد ہو گا ؟ جواب

Answer (beginning)

آفاقی یعنی میقات سے باہر رہنے والے (مثلاً پاک و ہند کے افراد) کے لیے حج قران یا تمتع کی طرح حج افراد کرنا بھی جائز ہے ، اگر چہ افضل حج قران ہے اور اس کے بعد حج تمتع افضل ہے ۔ حج افراد میں صرف حج کی نیت سے احرام باندھا جاتا ہے ، اس میں عمرے کے ارکان ادا نہیں کئے جاتے ، صرف حج کے مکمل ارکان اور مناسک کی ادائیگی کے بعد احرام کھول دیا جاتا ہے ۔ اگر کوئی آفاقی یہاں سے صرف عمرے کی نیت کر کے جائے اور عمرے کے ارکان مکمل کر کے احرام کھول دے اور پھر ملکہ پاک میں رہتے ہوئے آٹھ ذوالحجہ کو حج کا احرام نئے سرے سے باندھے اور حج کے مناسک مکمل کر کے احرام کھولے تو یہ حج تمتع کہلاتا ہے ، عموماً پاک و ہند سے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.